جیو کی بندش، پی بی اے کہاں ھے؟

0
514

پچھلے کُچھ دنوں سے پاکستان کے مُختلف حصوں میں جیو کی بندش جاری ھے، ابھی لاھور میں میری کیبل پر بھی جیو نظر نہیں آ رہا۔

جیو کی بندش کیوں ہو رہی ھے اور کس کے کہنے پر ہو رہی ھے اُسکے لیے کسی تفصیل میں جانے کی ضرورت نہیں، جیو کی مینیجمینٹ کو بھی پتا ھے کے جیو کیوں بند ھے، جیو کو بند کرنیوالے کون ہیں اُس کا بھی جیو کو ھم سے زیادہ پتا ھے۔ جب میڈیا اسٹیٹ سے زیادہ مضبوط ہونیکی کوشش کرے، اور مادر پدر آزاد ہو جائے تو پھر اُسکو خود سوچنا چاھیے کے وہ کونسی ایسی لائن ھے جسے کراس نہیں کرنا ہوتا لیکن شاید ھمارے میڈیا ہاؤسز نے ایسے کوئی معیار سیٹ نہیں کیے جس پر وہ خود بھی عمل کر سکے۔
ریٹنگز کی اندھا دُھند دوڑ، اور منفی مُقابلہ بازی نے ھمارے چینلز کو عوام کی نظروں میں خود ہی گرا دیا ھے

مثالیں دی جاتی ھیں کے ترقی یافتہ مُلکوں میں میڈیا آزاد ھے، وہاں بھی میڈیا کھُل کر اگر کسی ایک جماعت کیساتھ ھے تو اپوزیشن کو اسپورٹ کرنیکے لیے بھی میڈیا موجود ھے۔ اور پھر غیر جانبدار میڈیا ہاوسز بھی موجود ہیں۔
فوکس نیوز اگر کھُل کر ٹرمپ کیساتھ ھے تو سی این این ٹرمپ سے مُتصادم اور پھر ٹرمپ کھُل کر سی این این کو فیک نیوز بھی قرار دیتے ہیں اور ُسخت الفاظ میں تردید بھی کرتے ہیں لیکن ایک بات طے ہے کے کوئی بھی میڈیا ہاؤس اداروں کو نشانے پر نہیں لیتا۔ جہاں مُلک کی اساس پر بات کی جاتی ھے وہاں سارا میڈیا خم ٹھونک کر مُتحد ہو جاتا ھے۔

لیکن ھمارا میڈیا شاید ترقی پزیر مُلک کی حساسیت کو نہیں سمجھتا، اور کوشش کرتے ہیں کے مغربی میڈیا کی تقلید کی جائے اور اس تقلید میں وہ ساری حدیں کراس کر جاتے ہیں، فریڈم آف اسپیچ کا نعرہ بُلند کیا جاتا ھے لیکن اپنی اصلاح کیلیے کوئی قابل قدر اقدام نہیں کیا جاتا۔
کہنے کو ہمارے پاس پی بی اے جیسا ریگولیٹری ادارہ تو موجود ھے، لیکن اُس نے کبھی یہ زحمت گوارہ نہیں کی کے میڈیا کیلیے کوئی کوڈ آف کنڈکٹ ہونا چاھیے، اُس کی دوڑ صرف اشتہارات کو چلانے اور میڈیا ہاوسز کو بلیک لسٹ کرنیکی حد تک ہی ھے۔

اب جب جیو کو مُختلف کیبل آپریٹرز نے بند کر دیا ھے تو ہی بی اے کہیں نظر نہیں آ رہا۔
دراصل پی بی اے کی گورننگ باڈی بھی چینلز
ہی کے لوگوں پر مُشتمل ھے اور ہر ایک کے اپنے اپنے مفادات ہیں، لہذا جب کوئی مُشکل آن پڑتی ھے تو کوئی اتحاد نظر نہیں آتا، اور یہ اُس وقت تک ہوتا رہیگا جبتک پی بی اے کو چلانے کیلیے چینلز اور چینلز سے باہر کے پروفیشنل لوگ اس کو ادارے کی صورت میں نہیں چلائینگے، جبتک ایڈیٹوریل حقیقی طور پر پروفیشنل ایڈیٹر ز کے ہاتھوں میں نہیں آئیگا۔

جبتک مالکان چینلز کو اپنے ذاتی مقاصد کیلیے استعمال کرتے رہینگے تب تک چینلز کی بندشیں جاری رہینگی، اور جب تنخواہیں رُکیں گی تو سب سے زیادہ مُتاثر ورکنگ جرنلسٹ ہونگے، ٹیکنیکل سٹاف ہو گا،

پی بی اے کو جاننا ہو گا کے اُسکا استحقاق کیا ھے؟ اور اُسکو کب استعمال میں لایا جائیگا۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here