شہنشاہی سیاست .. عوام کو کیا ملا؟ وہی مہنگائی؟ وہی جعلی ادویات؟ وہی ورلڈ بنک کی غلامی؟ علی احمد ڈھلوں کے قلم سے

0
391

آج پانامہ لیکس کے بعد تمام سیاستدان اپنا اپنا ”کردار“ ادا کر رہے ہیں،شہنشاہی سیاست کو فروغ مل رہا ہے، اپنے ملک کی سینیٹ کو فتح کرنے کے لیے جوڑ توڑ کیے جارہے ہیں، عدلیہ اپنا کردار ادا کررہی ہے، اسٹیبلشمنٹ اپنا کردار ادا کر رہی ہے، کاروباری شخصیات ان سیاستدانوں کو استعمال کرکے اپنا کردار ادا کر رہی ہیں، لیکن ان سب کاموں میں عام آدمی کو کیا مل رہا ہے؟وہی مہنگائی میں 500فیصد تک کا اضافہ؟ وہی جعلی ادویات؟ وہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بنک کی غلامی؟ عوام جائیں بھاڑ میں بلکہ وہ تو 70سال سے بھاڑ ہی جھونک رہے ہیں۔ یہ ”مافیا“ اس بار بھی پیسے اور ”پبلک ریلشننگ“ کے زور پر اپنے مہرے چلا رہا ہے۔ پورے ملک کے ادارے لاچار بنا دیے گئے ہیں، پورے ملک کو ”افراد خانہ“ کے مطابق مختلف صوبوں میں تقسیم کرکے اسے خاندان میںبانٹ دیا گیا ہے۔ بس کرنسی نوٹوں پر نواز شریف کی تصویریں چھپنے والی رہ گئی ہیں، ملک کا نام اسلامی جمہوریہ شریفستان رکھنے والا رہ گیا ہے۔

عوام کو کچھ ملے نہ ملے مگر ایک بات تو طے ہے کہ عوام کی خدمت کرنے والے اداروں کا کام ان شریفوں کو تحفظ دینا رہ گیا ہے ، ان کاکام جاتی امرا کو مقدس جمہوری مقام قرار دینا، جھنڈے کا چاند ستارہ تبدیل کرکے اس پر ان کے اپنے نشان اور نیاقومی ترانہ ترتیب دیا جانا باقی رہ گیا ہے۔ عوام کا کیا ہے وہ تو جلسے جلوسوں میں آہی جاتے ہیں۔ کیوں کہ شہنشاہ جب بلائیں تو عوام نہ آئے یہ کیسے ہو سکتا ہے؟ اور پھر سب نے دیکھا کہ سینیٹ الیکشن میں کھربوں روپے چلے، چند قوتوں نے اسے ایسے فتح کیا جیسے سری نگر کو فتح کر لیا گیا ہو…. عوام کو کیا ملا؟ کیا اب بھارت پاکستان کا پانی نہیں روکے گا؟ کیا اب پاکستان کے خلاف جن محاذوں پر کام ہو رہا تھا وہاں رک جائے گا؟ اور پھر شہنشاہ سیاست کے بیٹے بلاول نے نواز شریف کا چیئرمین سینیٹ نہیں بننے دیا، واہ کیا بات ہے، مزہ آگیا مگر عوام کو کیا ملا؟نواز شریف نے اپنی جگہ اپنے بھائی کو پارٹی صدر بنوا لیا، واہ کیا بات ہے،کیا قربانی ہے، کیا موروثیت ہے، کیا دیدہ دلیری ہے، کیا حوصلہ ہے، مگر…. عوام کو کیا ملا؟نیب نے احد چیمہ کو گرفتار کیا، احد چیمہ نے اعتراف کیا کہ اس نے اربوں روپے کا غبن کیا، اس کی بیوی ، سسر اور دو چار لوگ اس کے سہولت کار تھے، کمال ہوگیامگر عوام کو کیا ملا؟پیراگون سٹی میں سعد رفیق نے 40کنال کی کوٹھی بنالی عوام کو کیا ملا ؟شریفوں نے 700ایکڑ پر محل بنا لیا، سینکڑوں فیکٹریاں لگالیں، عوام کو کیا دیا؟عدالتوں نے خادم رضوی اور افضل قادری کو گرفتار کر کے پیش کرنے کا حکم دیا، ایجنسیوں نے رپورٹ دی کہ یہ بہت شاطر آدمی ہے، اس نے 20دن تک دارلحکومت کو یرغمال بنائے رکھا، سیاستدانوں اور اسٹیبلشمنٹ نے اس کا ساتھ دیا مگر عوام کو کیا ملا؟

آج ہمارے سیاسی اداروں کی ترجیحات ہیں کہ شریفوں کی پانامہ سے کس طرح جان چھڑائی جائے، شریفوں پر کیسز ختم کروائے جائیں ، عمران خان کوکیسے شکست دی جائے، نواز شریف کو کیسے پارٹی صدر منتخب کیا جائے ، مریم نواز کو کیسے حکومتی اختیارات دیے جائیں، کن کن پراجیکٹ کو شروع کیا جائے تو اتفاق فاﺅنڈری کا پہیہ بھی ساتھ چلے گا۔ لیکن میرے ”فاضل سیاستدانوں“ کو اس سے کیا لگے؟ عوام اور ملکی معیشت جائے بھاڑ میں ، ملک دیوالیہ ہو رہا ہے ، کوئی بات نہیں …. شہنشاہ سیاست نے سینیٹ کا قلعہ تو فتح کر لیا ہے ناں! عوام کا کیا ہے؟ وہ تو جب تک سانسیں ہیں تب تک زندہ ہیں۔ بقول عدیم ہاشمی

میں اس کے واسطے سورج تلاش کرتا ہوں

جو سو گیا مری آنکھوں کو رت جگا دے کر

بلوچستان میں اسٹیبلشمنٹ نے بازی پلٹ دی، نیا وزیر اعلیٰ آگیا، جمہوریت کی ”فتح ہوگئی، مگر عوام کو کیا ملا؟عابد رضا جیسے مجرم نے مریم نواز کو لاکھوں کا تاج پہنا یا ، واہ کیا بات ہے پارٹی کارکنوں کی، انہوں نے تو شریفوں پر اپنا حق ادا کر دیا، مگر عوام کو کیا ملا؟زرداریوں کی سندھ میں گزشتہ دس سال سے بلاشرکت غیرے حکومت ہے ، سندھ کے ہر ہر علاقے کو موہنجو دڑو بنا دیا ، تھر کے عوام تو آج بھی بھوکے مر رہے ہیں ، سندھ کے بیشتر علاقوں میں آج بھی عوام بنیادی سہولتوں سے محروم ہیں، وہاں نہ کوئی سڑک، نہ کوئی سکول، نہ کوئی ہسپتال اور نہ کوئی لیبارٹری ہے،سپریم کورٹ کہہ کہہ کر تھک گئی مگر مجال ہے کہ کوئی ٹس سے مس ہوجائے اور محض کوڑا کرکٹ کو ہی ٹھکانے لگا دیا جائے ۔ اگر یہ پیارے سیاسی رہنما کوڑا تک نہیں اُٹھا سکتے تو ایسے ”شہنشاہ سیاست “کو عوام نے چومنا تھوڑی ہے؟ اور کیا شہنشاہ سیاست کو چومنے سے مریض صحت مند ہوجائے گا، کیا سندھ کا باسی پڑھا لکھا ہوجائے گا؟ کیا بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام سے 1ہزار روپے ماہانہ حاصل کرنے والے یہ 21ویں صدی کے غریب محلوں میں رہنا شروع ہو جائیں گے؟ شرم کی حد تو یہ ہے کہ سندھ کا باسی آج بھی بنیادی سہولتوں سے محروم ملیریا، ڈائیریا، چیچک، خوراک کی کمی سمیت بیشتر بیماریوں سے لڑ رہا ہے۔

آپ پنجاب میں آجائیں یہاں بھی 10سال سے شہباز شریف کی حکومت ہے، ہسپتال کہاں ہیں، تعلیمی ادارے کہاں ہیں؟دنیا کے مہنگے ترین پراجیکٹ بنانے میں شہباز شریف کا کوئی ثانی نہیں ہے، جہاں مفاد ہیں وہیں پراجیکٹ بھی لگادیے جاتے ہیں، نئے صوبے کوئی بنانے نہیں دیتا، جو پنجاب کے حصے کرنے کی بات کرتا ہے اس خاموش کراد یا جاتا ہے۔ جو عوام کے بھلے کی بات کرتا ہے اسے بدنام زمانہ کرکے رسواءکر دیا جاتا ہے…. شہباز شریف ابھی تک اپنے جلسوں میں پچھلی حکومت کے رونے رو رہے ہیں…. کیا یہی کچھ عوام کوملنا ہے؟ اور ملتے رہنا ہے؟ کوئی بھی سیاستدان اپنے گریبان میں کیوں نہیں جھانکتا ؟

آج افسوس ناک امر تو یہ ہے کہ سیاست جسے دنیا بھر میں عبادت سمجھ کر نبھایا جا رہا ہے پاکستان میں یہ ان ہزار خاندانوں کھیل بن چکا ہے جو کسی نہ کسی طرح اقتدار میں رہنے کے گر جانتے ہیں یہ سب کچھ جانتے ہوئے بھی اسٹیبلشمنٹ اپنا کھیل کھیل رہی ہے۔ زرداری اور عمران خان کو ساتھ ملا کر اپنی ہی پارلیمنٹ پر قبضہ جمایا جا رہا ہے؟ کیا ایسا کرنے سے عوام خوش ہو جائیںگے؟ خوشحالی اور امن کی آشا گھر گھر میں جھانکے گی؟ عوام کو ہسپتالوں میں دوائیاں نصیب ہو جائیں گی؟ انہیں سکول و کالج ملیں گے؟ انہیں کتابیں اور نوکریاں ملیں گی؟ اور سوچنے کی بات تو یہ بھی ہے کہ نواز شریف، زرداری اور عمران کے بچوں کو تو ہسپتال بھی دستیاب ہیں، تعلیمی ادارے بھی دستیاب ہیں، اور تو اورانہیں دنیا کی ہر وہ سہولت دستیاب ہے جس کی وہ آشا کرتے ہیں۔ حالانکہ اسٹیبلشمنٹ والوں کے بھی اپنے ہسپتال ہیں، اگر کسی کا کچھ نہیں ہے تو وہ عوام ہیں …. پاکستان سے کوئی مخلص نہیں ہے ۔ اگر کوئی مخلص ہوتا تو آج معیشت کا یہ حال نہ ہوتا۔ اس نام نہاد معیشت کے حوالے سے میں نے گزشتہ سال ہی نشاندہی کر دی تھی کہ مارچ کے آخر تک معاشی حالات حکومت کے کنٹرول میں نہیں رہیں گے۔

مارچ ختم ہونے والا ہے، کیا آج ڈالر کا ریٹ ایک ایک دن میں چارروپے نہیں بڑھ رہا؟آپ میرے کالم کا حوالہ چھوڑیں ہم تو ہیں ہی اس سسٹم کے ”باغی“…. آپ گزشتہ ہفتے کے تمام قومی اخبارات میں شائع ہونے والی آئی ایم ایف کی سہ ماہی رپورٹ پڑھ لیں آپ کو بخوبی اندازہ ہو جائے گا جس کے مطابق پاکستان پر بیرونی قرض 103ارب ڈالر تک بڑھ جائے گا….پاکستان کو بیرونی ادائیگیوں کی مد میں اربوں ڈالر ابھی ادا کرنے ہیں، اس وقت اسٹیٹ بینک کے پاس ساڑھے 12 ارب ڈالر موجود ہیں ، پاکستان سود کی مد میں سالانہ 3 ارب ڈالرز ادا کررہا ہے جس سے معیشت کو مزید نقصان ہوگا…. آج پاکستانی معیشت سخت ترین دباﺅ کا شکار ہے، کرنٹ خسارہ بڑھ رہا ہے، امپورٹ بل میں اضافے سے آئندہ آنے والے دنوں میں پاکستان مزید ادائیگیاں کرنے سے بھی قاصر ہوگا…. وغیرہ وغیرہ

اب بجٹ بھی ایک ماہ بعد آنے والا ہے۔ فرض کیا سو روپے کا بجٹ پیش کیا جائے گا، اس سو روپے کے قومی بجٹ میں سے پچاس روپے تو گزشتہ اور حالیہ حکمرانوں کے لیے گئے اندھا دھند ملکی وغیر ملکی قرضوں کے بیاج اور کنسلٹنسی کی نذر ہوجاتے ہیں۔پچیس روپے دفاع میں گئے۔بقیہ پچیس روپے میں سے بیس روپے سرکاری ڈھانچے کی تنخواہوں اور مراعات کے بلیک ہول میں گر جاتے ہیں۔باقی رہ گئے سو میں سے پانچ روپے۔اس پانچ روپے میں 22کروڑ لوگوں کو کیا ملتا ہے ؟ کدو !!یا شہنشاہ سیاست کا سونے کا بستر؟ فیصلہ عوام کو کرنا ہے کہ جب عوام کو کچھ نہیں ملا تو ان نااہل سیاستدانوں کو بھی کچھ نہیں ملنا چاہیے کیوں کہ عربی کی ایک کہاوت ہے کہ ہماری اپنی کوتاہیاں ہی ہمیں تباہی کی طرف لے جاتی ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here