شہباز شریف اور ان کی ترجیحات: مضبوط ایڈمنسٹریٹر، کمزور ترین سیاست دان اور اداروں میں ”ون مین شو“ متعارف کرانے کے خالق – علی احمد ڈھلوں کا تجزیہ

0
79

آخر کار پاکستان کی تاریخ میں وہ موڑ بھی آگیا جب مسلم لیگ ن کی مجلس عاملہ نے چاہتے نہ چاہتے ہوئے بھی شہباز شریف کو ن لیگ کاقائم مقام صدر بنانے کی منظوری دیدی۔اب برائے نام پارٹی الیکشن ہوں گے جس میں دوبارہ خادم اعلیٰ کو مستقل پارٹی صدر منتخب کیا جائے گا۔شہباز شریف 1985ءمیں لاہور چیمبر آف کامرس کے صدر اور لاہور میٹرو پولیٹن مسلم لیگ کے صدر رہے۔1988ء،1990ء،1993ء1997ء،2008ءاور2013ءمیں رکنِ پنجاب اسمبلی منتخب ہوئے۔جبکہ 1997ئ،2008ء،اور2013ءمیں وزیر اعلیٰ پنجاب بنے۔ لیکن اس دوران وہ مضبوط منسٹریٹر تو ثابت ہوئے مگر کمزور ترین سیاست دان اور وزیر بھی ثابت ہوئے جنہوں نے تمام اداروں کو ”ون مین شو“ بنا کر اُن کا بیڑہ غرق کرنے میں اہم کردار ادا کیا۔ ہر وزارت انہوں نے اپنے پاس رکھی، جو صحت، تعلیم ، قانون و غیرہ جیسی وزارتیں دوسروں کو ملیں وہ بھی برائے نام ہی تھیں۔ اس لیے میں اکثر یہی کہتا رہا کہ اگر ہر کام وزیراعلیٰ کو کرنا ہے تو اداروں کا کیا کردار ہے؟احد چیمہ ، فواد حسن فواد، سیکرٹری ہیلتھ جیسے فرنٹ مینوں کے نام جب منظر عام پر آرہے ہیں تو اداروں میں میرٹ کہاں ہے؟


حقیقت یہ ہے کہ وزیراعلیٰ شہباز شریف سے اداروں کی کوتاہی، غیر ذمہ داری اور کرپشن ڈھکی چھپی نہیں ہے۔ میاں شہباز شریف دل برداشتہ دکھائی دیتے ہیں۔ کرپٹ افراد کو طوق پہنانے کو دل کرتا ہے ان کا بلکہ چوک میں الٹا لٹکانے کو بھی جی کرتا ہو گا مگر دھمکانے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ ہاتھوں سے لگائی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑتی ہیں۔ اداروں میں بھرتیاں حکومت کرتی ہے اور ناکامی کی ذمہ دار بھی حکومت ہے۔ جو ادارہ دیکھو وفادار بٹھا رکھے ہیں۔ اس ملک کا کرپٹ ترین شعبہ بیوروکریسی ہے۔ سیاستدان بیوروکریسی کے جوتوں کے تسمے باندھتے ہیں۔ حکومتیں تبدیل ہوتی رہتی ہیں لیکن بیوروکریسی المعروف ”پبلک سرونٹ“ ہر حکومت کو استعمال کرتی ہے۔ بیوروکریسی کسی حکومت کی سگی نہیں، فقط مفادات کی سگی ہے۔ بیوروکرٹیس کو خوش رکھنا سیاستدانوں کی مجبوری ہے۔ الا ما شا اللہ دونوں مل کر کھاتے ہیں۔ ملی بھگت سے وزیر اعظم اور وزیراعلیٰ تک حقائق پہنچنے نہیں دیتے۔ ایک دوسرے کے چور ہیں۔حکومت کے ہاتھ بندھے ہوتے ہیں کہ اہم عہدوں پر ان لوگوں کو فائز کیا جاتا ہے جو حکومت کے وفادار ہوں۔ وفاداری سے مراد حکومتوں کی کمزوریوں اور کرپشن کے راز دار ہوں۔ موچی کا کام نائی اور درزی کا کام لوہار کو سونپ رکھا ہے۔ حکومت جانتے بوجھتے غیر متعلقہ افراد کو اہم شعبوں کے حساس عہدے سونپ دیتی ہے۔ سیاست دو چیزوں کی محتاج ہے۔

ووٹ اور نوٹ ! ایک شریف آدمی نہ ووٹ لا سکتا ہے نہ نوٹ۔ ووٹ اور نوٹ کے لئے شرافت سے زیادہ بدمعاشی کی ضرورت ہے۔ بدمعاشی سے ووٹ اور نوٹ تو مل جاتے ہیں لیکن نظام اور عوام کا جنازہ نکل جاتا ہے۔ ویسے تو پاکستان کے تمام اداروں کی صورتحال شرمناک ہے لیکن شعبہ تعلیم اور شعبہ صحت کے حالات ناگفتہ بہ ہیں۔ بجٹ میں صوبوں کے لئے اربوں روپیہ مختص کیا جاتا ہے لیکن پورے ملک میں غریب کا بچہ صاف پانی پینے کے لئے تڑپ رہا ہے۔ جو حکومتیں سرکاری سکولوں کو بنیادی سہولیات مہیا کرنے سے قاصر ہیں، ان لوگوں کو واقعی طوق پہنا دینا چاہئے۔ محکمہ صحت میں بھی بنیادی سہولیات میسر نہیں۔ ڈاکٹر ہے تو دوائی نہیں دوائی ہے تو جعلی یا ایکسپائرڈ ہے۔ فارمیسی پر چلے جاﺅ تو ڈگری و تربیت یافتہ فارماسسٹ میسر نہیں۔ ادویات کی قیمتیں غریب آدمی کی پہنچ سے باہر ہیں۔ ادویات کا ایشو بھی خطرناک صورتحال کر چکا ہے۔ باقی صوبوں کو انگلی ہلانے والا وزیراعلیٰ نصیب نہیں، پنجاب کو نصیب ہے لیکن ان میں فرسودہ نظام تبدیل کرنے کی ہمت نہیں۔ اس ملک میں با صلاحیت اور تجربہ کار صاف شفاف افراد کی کمی نہیں البتہ سیاستدانوں کو ان افراد سے ڈر لگتاہے۔اپنی کمزوریوں اور چوریوں کی وجہ سے ان کے ساتھ کمفرٹ نہیں رہتے۔

مجھے یہ سمجھ نہیں آرہی کہ اگر مسٹر خادم اعلیٰ کو ہی پارٹی صدر بنانا تھا تو چھ ماہ پہلے صدر بنانے میں کیا مضائقہ تھا؟ ایک فرد واحد کے لیے پارلیمنٹ سے قانون سازی کی گئی، پارلیمنٹ کو ذاتی استعمال کرکے اسے گالیاں دلوائی گئیں۔ ایک نااہل شخص کو پارٹی کا سربراہ بنوا کر جگ ہنسائی کیوں کروائی گئی ؟ کیا دس سال سے پنجاب پر حکمرانی کرنے والے ”مغل طرز کے شہنشاہ“ نے بیورو کریسی کو گھر کی باندھی نہیں بنا کر رکھا ہوا؟ جب یہ کہا جاتا ہے کہ اگر ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہوجائے تو مجھے قبر سے نکال کر پھانسی دے دی جائے تو اربوں کی کرپشن کے کیسز سامنے کیوں آرہے ہیں؟ حقیقت یہ ہے کہ موصوف نے بیوروکریسی میں سسٹم کو فالو نہ کرکے اور شخصیات کو پروان چڑھا کر اداروں کو کمزور کرنے کی بنیاد ڈالی ہے۔ جس پر پوری قوم سر پکڑ کر بیٹھی ہے بقول شاعر

ایک ہنگامے پہ موقوف ہے گھر کی رونق

نوحہ غم ہی سہی، نغمہ شادی نہ سہی

اور اس سے بھی بڑھ کر ہمیں یہ علم ہی نہیں ہے کہ ہماری ترجیحات کیا ہیں؟ شرم آنی چاہیے کہ جب ہماری ترجیحات بڑے بڑے ٹھیکوں میں گھپلے کرنا ہو، لاہور کی چند سڑکوں کو بہتر بنا کر ایک جھوٹا ماڈل پیش کیا جا رہا ہو، ایک ایک روڈ کو اکھاڑ کر بار بار بنایا جا رہا ہوجبکہ شمالی لاہور کی طرف سفر کریں تو سر جھک جائیں کہ یہ بھی ”لاہور“ ہے…. آپ لاہور سے باہر قدم رکھ لیں، آپ کو ترقی کے دعوﺅں کا بخوبی علم ہو جائے گا۔ ہمارے یہاں مسئلہ یہ ہے کہ ”تھنک ٹینک“ کوئی نہیں جو ہماری ترجیحات کے بارے میں فیصلہ کرے، کیا میٹرو پر اتنے پیسے خرچنے ضروری تھے؟ کیا اورنج ٹرین پر اس قدر پیسا بہانا ٹھیک تھا؟کیا تعلیم اور صحت ترجیحات نہیں ہونی چاہیے تھیں؟کیا صاف پینے کا پانی ترجیح نہیں ہونا چاہیے تھا؟ کیا کیمیکل ملے دودھ سے نجات حکومت کی ترجیح نہیں ہونی چاہیے تھی؟ کیا انجیکشن سے تیار بچوں کے فیڈر سے نجات ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہونی چاہیے تھی؟کیا بے گھروں کو چھت فراہم کرنا حکومتی ذمہ داری نہیں تھی؟کیا جعلی ادویات کی روک تھام حکومتی ترجیحات میں شامل نہیں تھی؟ پرائیویٹ سکولوں کی فیسیں کنٹرول کرنا، پرائیویٹ ہسپتالوں کی فیسیں کنٹرول کرنا، گردہ مافیا کو کنٹرول کرنا، اسٹنٹ مافیا کو کنٹرول کرنا ، سٹریٹ کرائم کو کنٹرول کرنا یا مہنگائی کو کنٹرول کرنا اگر حکومتی ترجیحات نہیں ہیں تو آخر ترجیحات ہیں کیا؟ یہاں تو ہر چیز سے کرپشن باہر آرہی ہے…. پینے کے صاف پانی پرجیکٹ میں کرپشن، ڈینگی مکاﺅ سکیم میں اربوں کی کرپشن، سستی روٹی سکیم میں کرپشن، دانش سکول پراجیکٹ فلاپ، میٹرو بس سروس میں اربوں کی کرپشن ، اورنج لائن ٹرین پراجیکٹ کا آڈٹ ہونا ابھی باقی ہے۔ اگر یہ تمام پراجیکٹ محفوظ نہیں ہیں تو پھر خادم اعلیٰ کیسے کہہ سکتے ہیں کہ ایک دھیلے کی کرپشن ثابت ہو جائے تو مجھے قبر سے نکال کر پھانسی دے دی جائے؟


حقیقت میں حکمرانوں کی ترجیحات محض ”ڈیکوریشن “ہے۔ اداروں میں جب دل چاہتا ہے من مرضی کے لوگوں کو اعلیٰ عہدوں سے نواز دیا جاتا ہے اور جب چاہتا ہے ایل ڈی اے کی حدود کو لاہور ڈویژن تک بڑھا دیا جاتا ہے تاکہ چھوٹے ڈویلپر بھوکے مر جائیں اور بڑے ڈویلپر اپنے اور ”بڑوں“ کی تجوریاں بھرتے رہیں۔ کسی بھی پراجیکٹ کے حوالے سے کوئی پراسس ہی مکمل نہیں کیا گیا۔ ایک ریٹائرڈ ایل ڈی اے کے افسر سے اس حوالے سے بات ہوئی تو ان کا کہنا تھا کہ مجھے تو ڈر ہے کہ کہیں وہ خود بھی پکڑے نہ جائیں ، ان کا کہنا تھا کہ بے ایمانی کی بات نہیں بلکہ ڈر یہ ہے کہ کسی پراجیکٹ کے لیے ڈاکیومنٹیشن کا عمل ہی نہیں مکمل کیا گیا ۔ کسی پراجیکٹ کو مکمل کرنے کے لیے قوائد و ضوابط فالو ہی نہیں کیے گئے اور نہ ہی ان حکمرانوں نے کسی کام کو مکمل کرنے دیا ۔ ملتان روڈ کو مکمل کرنے کے بعد پھر توڑ دیا گیا، لاہور کی معروف شاہراہیں بار بار توڑ کر بنائی جا رہی ہیں۔ بار بار کھدائی کی جاتی ہے اور بار بار سڑک بنا کر پیسے بٹورے جاتے ہیں ۔ ان کے علاوہ شہباز شریف گزشتہ حکومت کے کیے گئے کاموں سے بھی سخت چڑ تھی، ورنہ آج تک رنگ روڈ لاہور کو پایہ تکمیل تک کیوں نہ پہنچایا جا سکا۔

اور کیا ن لیگ کو پارٹی میں کوئی ایسا شخص نہیں ملا جو خاندان کے باہر سے ہو اور اسے پارٹی صدر بنا دیا جاتا، جب”شریف لوگ“جدہ بھاگ گئے تھے، تو جاوید ہاشمی ن لیگ کے صدر رہے، اسی لیے تو میں اکثر کہتا ہوں کہ جب براوقت آتا ہے تو انہیں دوست احباب یاد آجاتے ہیں ورنہ انہیں تو اپنا آپ بھی یاد نہیں رہتا۔ چوہدری نثار بھی متنازعہ اسی لیے ہوا کہ اس نے خاندانی بادشاہت کو تسلیم کرنے سے انکار کردیا۔ جو ان کے سامنے حق کی بات کرے وہ غدار ہے، وہ جمہوریت کا دشمن ہے۔اور کس طرح ممکن ہے موروثی سیاست پر یقین رکھنے والے یہ سیاست دان اپنی ہی جماعت کے سینئر سیاستدانوںکو اپنے بچوں کے سامنے کھڑا کریں گے؟


خیر اب جبکہ وہ پارٹی صدر بھی بن گئے ہیں اور پورے ملک کے ایم این ایز ، سینیٹرز کی سلیکشن کی ذمہ داری بھی انہیt پر ہے تو یہ یقینا ان پر بڑی ذمہ داری ہے کہ وہ کچھ نہ کریں محض اپنی پارٹی میں اور پنجاب میں چیک اینڈ بیلنس کا نظام بہتر کر لیں سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا۔ ترجیحات ٹھیک کر لیں سب کچھ خود بہتر ہو جائے گا۔ تعلیم پر فوکس کریں ، دیکوریشن کو اپنی زندگی سے نکال دیں تو ملک حقیقی معنوں میں ترقی کرے گا اور عوام بھی حقیقت میں خوش رہیں گے کہ انہیں خادم نہیں بلکہ مسیحا مل گیا ہے

end

Mediabites Editorial – Ali Ahmed Dhiloon

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here