کیا مہوش ٹپال اپنے والد آفتاب ٹپال کی میراث کو کامیابی سے آگے بڑھا رہی ہیں؟

0
325

کیا ٹپال ٹی اپنی نئی باس مہوش ٹپال کی لیڈر شپ میں مارکیٹ میں اپنی پوزیشن قائم رکھ پائیگی؟
 چائینیز کہاوت ھے کے کوئی بھی فیملی بزنس تین جنرینشنز تک ھی جاری رہتا ھے۔ تیسری جنریشن تک پہنچتے پہنچتے کوئی بھی بزنس اپنے اختتام پر پہنچ چُکا ہو تا ھے۔


آج ہم جس بزنس کی بات کرنے جا رہے ہیں وہ ھے ٹپال چائے، جو کئی دہائیوں سے پاکستان کی چائے کی مارکیٹ میں کامیابیاں سمیٹتا چلا جا رہا ھے۔ یونی لیورز کے دو بڑے برانڈ ز کی موجودگی کے باوجود ٹپال نے ایک بڑی مارکیٹ میں سخت مُقابلہ کیا اور ایک کیبعد ایک کامیاب برانڈ ز مُختلف مارکیٹوں میں دیے۔
ٹپال برانڈ کا آغاز 1947 میں ہوا اور اسکے فاونڈر آدم علی ٹپال تھے۔ شروع شروع میں ٹپال چائے کی سیلز تقریباً پانچ ہزار کلو گرام تھی۔ بعد میں کمپنی کی باگ دوڑ جونیئر ٹپال آفتاب ٹپال نے سنبھال لی اور اپنے چالیس سالہ دور میں ٹپال چائے کی سیلز کو سو گُنا بڑھا کر پانچ کڑور کلو گرام تک لے گئے۔ اور اُنھیں یہ اعزاز بھی حاصل ہوا کے وہ چائے امپورٹ میں دُنیا کے سب سے بڑے امپورٹر بن گئے۔


چالیس سال تک ٹپال کو کامیابیوں کی آخری حدوں کو چھونے کیبعد آفتاب ٹپال کی عُمر اور بگڑتی صحت اس بات کی مُتقاضی تھی کے ٹپال کی باگ دوڑ کسی مُتحرک نوجوان کو سونپ دی جائے۔ آفتاب ٹپال کیلیے اپنی بیٹی مہوش ٹپال سے زیادہ اچھی کوئی آپشن نہیں تھی، اور پھر ٹپال چائے کی قیادت تیسری جنریشن مہوش ٹپال کے ہاتھوں میں آ گئ۔


 لندن کے امپیریل کالج سے بزنس مینیجمینٹ میں آنرز کرنے کیبعد 25 سالہ مہوش ٹپال کا 2006 میں اتنے بڑے گروپ کو سنبھالنا کوئی آسان ٹارگٹ نہیں تھا۔
کمپنی کے مُختلف شعبوں میں تجربے کیبعد مہوش ٹپال کو 2010 میں کمپنی کا ڈائریکٹر بنا دیا گیا۔ آفتاب اقبال کی صحت کے مسائل کیوجہ سے تقریباً تمام شعبوں میں مہوش ٹپال روز مرہ کے فیصلے بھی کرنے لگیں۔
نوجوان اور متحرک مہوش ٹپال نے اپنی تعلیم اور بیرون مُلک تجربے کی بُنیاد پر کمپنی کو ایک نئی جہت دی، جسکی وجہ سے کمپنی کے بعض سینیئرز مہوش ٹپال کی تیز رفتاری کیساتھ ناں چل سکے اور کمپنی کو خُدا حافظ کہنا پڑا، لیکن مہوش ٹپال نے ہمت نہیں ہاری اور جلد ایک ینگ ٹیم کھڑی کر دی۔


بلا شُبہ ہارون آباد پنجاب کا ایک چھوٹا برانڈ وائیٹل ٹی اب چھوٹا برانڈ نہیں رہا۔ وائیٹل ٹی یقیننا ٹپال ٹی، لپٹن ٹی، اور بروُک بانڈ کیلیے خطرے کی گھنٹی بجا چُکا۔
اور یقیننا یہ مہوش ٹپال کیلیے ایک بڑے چیلنج سے کم نہیں
آفتاب ٹپال کی لیڈرشپ نے ٹپال چائے کو بڑے ملٹی نیشنل برانڈ ز کی موجودگی کے باوجود پاکستان کا سب سے بڑا برانڈ بنا دیا۔ اور 2005 سے 2006 تک پاکستان کا نمبر ون برانڈ تھا۔


 اُسوقت جو ڈیٹا مارکیٹ میں دستیاب اُسکے مطابق چائے کی مارکیٹ پاکستان میں تقریباً 29 کڑور کلو گرام ھے جسمیں تقریباً 14 کڑور کلو کھُلی چائے کی مارکیٹ ھے، باقی 15 کڑور کلو چائے مارکیٹ میں 5 کڑور کلو مارکیٹ شیئر ٹپال چائے کا ھے، 3.5 کڑور کلو لپٹن اور بروک بانڈ کا اور تقریباً 1.5 کڑور کلو وائیٹل چائے کا ھے۔ جو کے یقینا دوسرے برانڈ ز کیلیے ایک بڑا خطرہ ھے۔


 آفتاب ٹپال ایک بڑے با کمال لیڈر تھے، اُنکے لیے تمام مُلازمین ٹیم کا حصہ ہوتے تھے، اور اُنکی اہمیت ایک فیملی کی تھی۔ اسی وجہ سے ایک کیبعد ایک برانڈ کامیابی کے جھنڈے گاڑتا رہا، ‘دانے دار’ کی ٹیگ لائین نے ٹپال ٹی کو بڑے شہروں میں کامیابی کی بلُندیوں تک پہنچایا تو ‘میزبان’نے چھوٹے شہروں، ٹاونز اور دیہاتوں میں تمام بڑے برانڈ ز کو پیچھے چھوڑ دیا۔
:اب ڈائریکٹر مہوش ٹپال کیلیے درج ذیل بڑے ٹارگٹ ہیں جنکے جواب ملنا بہت ضروری ہیں


ٹپال ٹی مینیجمینٹ کیا درُست سمت میں مہوش ٹپال کی قیادت میں ایک ٹیم بن کر کام کر رہی ھے؟
 بعض زرائع کا کہنا ھے کے وائیٹل ٹی نے مارکیٹ شیئر بڑھا کے 3.5 کڑور کلو تک کر لیا اور یونی لیور کو پیچھے چھوڑ دیا، اب کیا یہ ٹپال چائے کیلیے بھی ایک خطرہ ھے؟

اس خطرے کو بھانپتے ہوئے مہوش ٹپال کی کیا سٹریٹیجی ھے؟
 اپنے والد آفتاب ٹپال کی میراث کو کیسے آگے لیکر چلیں گی؟
 جب سے مہوش ٹپال نے کمپنی کی باگ دوڑ سنبھالی ھے، تب سے کمپنی کے مارکیٹ شیئر میں کیا فرق آیا ھے؟
ایک میگزین میں کہا جا رہا ھے کے تقریباً تمام پُرانے مُلازمین چھوڑ چُکے، اسمیں کتنی سچائی ھے؟
 اسی میگزین میں یہ بھی کہنا ھے کے مہوش ٹپال کا مینیجمینٹ اسٹائل بہت سخت ھے، اسمیں کس حد تک سچائی ھے؟

end

Mediabites Editorial – Imran Malik & Shoaib Naqvi

*** We have used data for this Blog from Profit Magazine (Pakistan Today)

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here