Has the Afghan war entered into a decisive turn? What can be impact on Pakistan? Analysis of AsimAllah Buksh

0
127

کیا افغان جنگ، فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو گئی؟ عاصم اللہ بخش کا زبردست تجزیہ

افغان دارالحکومت کابل میں طالبان کی جانب سے گزشتہ ایک ہفتہ کے دوران پے درپے تین بڑی کاروائیوں نے افغانستان اور علاقائی امن کے حوالے سے ایک نئی تشویش کو جنم دیا ہے۔ اس تشویش کے دو بڑی وجوہات ہیں. ایک تو یہ کہ موسم سرما میں طالبان بالعموم بڑی جنگی کاروائیاں نہیں کرتے. دوسرا یہ کہ تینوں حملے کابل کے ہائی سیکیورٹی علاقہ میں ہوئے۔ “ریڈ زون” میں کیے گئے ان فدائی حملوں سے جہاں کابل کی سیکیورٹی اور حکومتی رٹ پر بہت سے سوالات اٹھ کھڑے ہوئے ہیں وہیں اس نے اسلام آباد کو بھی پریشان کر دیا ہے۔ حسبِ معمول کابل حکام نے ان حملوں کی تمام تر ذمہ داری پاکستان پر ڈال دی ہے اور اس کے لیے کسی تحقیقاتی عمل کا تکلف گوارا نہیں کیا.

زیادہ اہم یہ بات ہے کہ ان حملوں کے نتیجے میں کیا پاکستان میں بھی کوئی تخریبی یا تادیبی کاروائی کی جائے گی۔ ابھی تو چند روز قبل فاٹا میں واقع ایک افغان پناہ گزین کیمپ پر ڈرون حملہ کی بازگشت بھی مدھم نہیں پڑی۔ کیا ایسا ہی کوئی اور حملہ مستقبل قریب میں ایک مرتبہ پھر کیا جائے گا؟ کیونکہ افغان اور امریکی حکام کے مطابق یہ حملے حقانی گروپ نے کیے۔ حقانی گروپ کو مورود الزام ٹھہرانے کا سیدھا مطلب ہے کہ دراصل بارِ الزام پاکستان پر ہے۔

افغانستان میں اس وقت جو کچھ ہو رہا ہے اسے سمجھنےکے لیے ہمیں اگست 2017 میں جانا ہو گا جب امریکی صدر ٹرمپ نے اپنی افغان پالیسی کا اعلان کیا۔ اس پالیسی کا بنیادی نقطہ یہ تھا کہ افغان مسئلہ کے لیے مذاکرات کے بجائے فوجی حل کا راستہ اختیار کیا جائے گا اور طالبان اور ان کی مزاحمت کا بزور طاقت خاتمہ اس کا ہدف ہو گا ۔ اس مقصد کے لیے نہ صرف افغانستان میں امریکی فوجیوں کی تعداد فوری طور پر 11000 سے بڑھا کر 14000 کی جانا تھی بلکہ 2018 کے اوائل میں 700 اسپیشل فورس کے سپاہی بطور Security Force Assistance Brigade افغانستان میں تعینات کرنے کا فیصلہ بھی ہؤا ۔ یہ دستہ اعلی تربیت یافتہ اور جدید ترین مواصلاتی آلات اور ٹیکنالوجی سے لیس ہوتا ہے ۔ حکمت عملی یہ طے کی گئی کہ امریکی فوجی نہ صرف افغان سپاہیوں کی تربیت کریں گے بلکہ وہ تمام طالبان مخالف آپریشنز میں افغان دستوں کے ساتھ ہوں گے اور براہ راست نگرانی کریں گے لیکن وہ جنگی کاروائی میں خود حصہ نہیں لیں گے۔ یہ کام افغان سپاہیوں کو کرنا ہو گا۔ امریکی فوجی اس بات کا اہتمام کریں گے کہ موقع کی مناسبت اور میدان جنگ کے حالات کے مطابق آرٹلری یا فضائیہ کی مدد طلب کر سکیں۔ اگست میں پالیسی کے اعلان کے بعد ان کاروائیوں میں اچانک بہت اضافہ دیکھنے میں آیا۔

سن 2017 میں
میں قریب 2400 فضائی حملے کیے گئے جو 2012 کے بعد کسی بھی ایک سال میں سب سے زیادہ ہیں۔ یہ بات بھی اہم ہے کہ 2012 میںکیا افغان جنگ، فیصلہ کن موڑ میں داخل ہو گئی؟ افغانستان میں امریکی بری افواج کی تعداد قریب 90000 تھی اور وہ افغان سرزمین کے ایک وسیع تر حصہ میں برسرپیکار تھیں، اسی حساب سے انہیں فضائی کَوَر کی ضرورت رہتی تھی۔ آج افغانستان میں امریکی افواج کی تعداد اور آپریشنز کی مقدار کو دیکھتے ہوئے 2400 فضائی حملے نہایت غیرمعمولی عدد ہے۔

تاہم اس جنگی حکمت عملی میں بنیادی نقص یہ رہا کہ زمینی آپریشنز کے لیے تمام تر انحصار افغان فوج پر کیا گیا جبکہ وہ تربیت اور مورال کے لحاظ سے اس درجہ پر نہیں تھیں جو اس قسم کے آپریشنز کے لیے بنیادی شرط ہے۔ غالباً اس لیے ان کارروائیوں کے وہ نتائج حاصل نہ ہوسکے جن کی توقع امریکی حکام کو تھی۔

افغان مبصرین کے مطابق طالبان کے ان حملوں کی اہمیت موجودہ امریکی پالیسی کے تناظر میں اور بھی بڑھ جاتی ہے۔ طالبان کی یہ کوشش ہے کہ وہ لڑائی کو دشمن کے گھر تک لے جائیں تاکہ یہ ظاہر کیا جا سکے کہ انہیں ختم یا کمزور نہیں کیا جا سکا۔ وہ اب بھی کسی بھی وقت اور کسی بھی جگہ سول یا فوجی ہدف کو نشانہ بنانے کی صلاحیت رکھتے ہیں۔ دارالحکومت میں اس طرح کی کاروائی سے یہی تاثر دینا مقصود تھا کہ امریکہ کی اسٹریٹیجی کامیاب نہیں ہو سکی۔ مزید یہ کہ ان کے خیال میں اس طرح کابل میں قائم اشرف غنی کی حکومت پر دباؤ بڑھے گا اور اس کی اہلیت کے حوالہ سے پیدا ہونے والا عوامی رد عمل اسے مزید سراسیمگی اور شکست و ریخت کا شکار کر دے گا۔

پاکستان کا مسئلہ یہ ہے کہ افغان حکومت ایسی کسی بھی کاروائی کا الزام پاکستان پر لگا کر خود بری الذمہ ہو جاتی ہے اور اس پروپیگنڈہ وار میں اسے امریکہ اور بھارت کی بھرپور حمایت حاصل رہتی ہے۔ جبکہ زمینی حقیقت یہ ہے کہ اس وقت کون سی علاقائی طاقت ہے جو افغانستان میں دخیل نہیں۔ خود افغان صدر کہہ چکےہیں کہ اس وقت افغانستان میں بیس سے زائد مسلح گروہ کام کر رہے ہیں۔ اس تناظر میں صرف پاکستان پر انگشت نمائی کسی مسئلہ کا حل نہیں. طالبان کے حوالے سے سارا ملبہ پاکستسان پر ڈالنے والے یہ بھول جاتے ہیں کہ طالبان کے سابق سربراہ ملا اختر منصور کے ایران کے ساتھ بھی مذاکرات جاری تھے۔ روس اور چین بھی افغانستان میں کسی نا کس صورت فعال ہیں۔ اس وقت تو صورت حال یہ ہے کہ پاکستان شاید وہ واحد ملک ہے جو افغانستان میں کسی قسم کی گڑبڑ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔ اس کی ایک وجہ تو مشرقی سرحد پر بھارت کی جانب سے جاری Low Intensity Warfare کا معاملہ اور دوسرا یہ کہ پاک چین اقتصادی راہداری کے فعال ہو جانے کا وقت بہت قریب آ پہنچا۔ اس موقع پر امن و امان کا کوئی مسئلہ اس منصوبہ کے لیے بہت سی مشکلات کا باعث بن سکتا ہے۔ پھر 2018 پاکستان میں الیکشن کا سال ہے اور یہاں پر دیرپا سیاسی استحکام کا ان انتخابات سے گہرا تعلق ہے۔

بظاہر یوں دکھائی دیتا ہے کہ پاکستان پر دباؤ بڑھے گا۔ اب تک ایسا ہی ہوتا آیا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ پاکستان سے بڑے کھلاڑی اب براہ راست افغانستان میں موجود ہیں اور اس امر سے امریکہ بھی بخوبی آگاہ ہے۔ پاکستان کا بازو مروڑنے سے کچھ حاصل نہیں ہو گا۔ امریکہ کے لیے بہتر یہ ہے کہ وہ اپنی افغان حکمت عملی پر نظر ثانی کا آپشن بروئے کار لاتے ہوئے افغان امن کے لیے مذاکرات کی راہ اختیار کرے. اگر وہ داعش یا کسی اور گروہ کی پشت پناہی کر کے خطہ کو عدم استحکام کا شکار کرنا چاہتا ہے تو اس سے پاکستان یا کوئی اور تو شاید مسائل کا شکار ہو جائے لیکن اس سے امریکہ کو کچھ فائدہ نہیں ہو گا۔ شام اور شمالی کوریا کے بعد اسے یہاں بھی خفت کا سامنا ہے. امریکہ کو اس حقیقت کا سامنا کرنا ہوگا کہ افغان جنگ میں اسے شکست ہو چکی۔ اب اسے چاہیے کہ باعزت واپسی کے امکانات کا جائزہ لے۔ جو حلقے اس بات سے متفق نہیں کہ امریکہ کا شکست ہو چکی وہ صرف یہ دیکھ لیں کہ جو کام امریکہ نوے ہزار فوجیوں سے پندرہ برس میں نہ کر پایا اسے چودہ یا پندرہ ہزار سے پورا کرنے کا دعوی کر رہا ہے، جبکہ اب اس کی مشکلات بھی بڑھ چکی ہیں اور حریف بھی۔

end

MediaBites Editorial – Asim AllahBakhsh

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here