زینب قتل کیس میں مُلزم کا اقرار جُرم: چیز لینے کے بہانے بُلایا، اکیلے ہی جُرم کیا، بڑی غلطی ہو گئی؟

0
177

زینب کو زیادتی کے بعدقتل کیا،ملزم عمران کااعتراف جرم 

تفصیلات کے مطابق انسداد دہشت گردی کی خصوصی عدالت کے جج سجاد احمد نے زینب قتل کیس کی سماعت کوٹ لکھپت جیل میں کی۔ عدالت نے 32 گواہوں کے بیانات قلمبند کرنے کے بعد ملزم عمران کو بیان قلمبند کرانے کے لیے طلب کیا۔ ملزم عمران نے بیان دیتے ہوئے کہا کہ اس نے زینب کو چیز دینے کے بہانے اپنے پاس بلایا تھا۔

جب وہ اسے لے کر جا رہا تھا تو الخلیل بیکری، گوگا میٹریل سٹور اور گیٹ کالج کے سی سی کیمروں نے اس کو ریکارڈ کرلیا۔ وہ زینب کو کوڑے کے ڈھیر کے قریب ایک کمرے میں لے گیا جہاں اس نے زینب کے ساتھ زیادتی کی واردات منہ پر ہاتھ رکھ کر کی۔ جس سے ان کا دم گھٹ گیا اور وہ درندگی کی وجہ سے دم توڑگئی۔ جس کے بعد نے اس نے زینب کو کوڑے کے ڈھیر پر پھینک دیا۔

ساری کارروائی اس نے اکیلے کی۔ اس کے بعد وہ گھر آیا۔ کپڑے تبدیل کئے اور نعت کی محفل میں چلا گیا واپس آیا پولیس کھڑی تھی۔ معلوم کیا تو بتایا گیا کہ بچی زنیب کو اغوا کرلیا گیا۔ اس کے بعد انکوائری شروع ہو گئی بچی کی لاش ملی جس کے بعد جے آئی ٹی بن گئی۔

ملزم نے کہا کہ علاقے کے تمام لڑکوں کے ڈی این اے ٹیسٹ ہوئے جس کی وجہ سے پکڑا گیا۔ ملزم کا کہنا تھاکہ اس سے بڑی غلطی ہوگئی۔ عدالت نے بیان کے بعد پراسیکیوشن اور وکیل صفائی کو بحث کیلئے آج کوٹ لکھپت جیل طلب کر لیا۔

end

Mediabites Editorial – Shoaib Naqvi

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here