بڑی کامیابی: طلبہ کے لیے 35 زبانیں سیکھنے والی ٹیچر ’گلوبل پرائز‘ کے لیے منتخب

0
154

اینڈریا کے کام کی لگن اور جانفشانی نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور وہ نہ صرف دنیا کی10 اساتذہ کی فہرست میں شامل ہوئیں, بلکہ انہیں’وارکی فاؤنڈیشن گلوبل ٹیچر پرائز‘ کے لئے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا۔

دنیا میں گھر کے بعد اسکول وہ جگہ ہے جہاں بچے سب سے زیادہ وقت اور اپنی ابتدائی زندگی کے اہم سال گزارتے ہیں اور جب اسکول میں انہیں ان کی اپنی زبان میں خوش آمدید کہنے والا کوئی موجود ہو، تو اس سے زیادہ خوشگوار بات شاید ہی کوئی اور ہو۔

برطانیہ کے شہر برینٹ کے ’ایلپرٹن کمیونٹی اسکول‘ کے بچوں میں بڑی تعداد تارکین وطن بچوں کی ہے اور39سالہ اینڈریا ظفیراکائو اسی اسکول میں پڑھاتی ہیں۔

اسکول محروم طبقے اور جس علاقے میں اسکول ہے وہ علاقہ برطانیہ کا سب سے غریب علاقہ سمجھا جاتا ہے اور اس کاؤنٹی میں قتل کی شرح بھی ملک کے دیگرحصوں سے زیادہ ہے۔

اس اسکول میں پڑھنے والے بچوں کی اکثریت کے والدین مختلف ملکوں سے ہجرت کرکے برطانیہ میں آباد ہوئے۔ بہت سے بچوں اور ان کے والدین کو انگریزی بولنا بھی نہیں آتی۔

انڈریا نے اپنے اسکول کے بچوں اور ان کے والدین سے رابطوں کو بہتر بنانے کے لئے 35 مختلف زبانوں میں بچوں اور والدین کو اسکول میں خوش آمدید اور الوداع کہنا سیکھا اور اب ان زبانوں کو ان سے رابطے کے لئے نہایت خوش اسلوبی سے استعمال کرتی ہیں۔

اینڈریا نے جو زبانیں سیکھیں ان میں اردو، عربی، ہندی، تامل، گجراتی، پرتگالی، صومالی، رومانین اور پولش زبانیں شامل ہیں۔

اینڈریا کے کام کی لگن اور جانفشانی نے پوری دنیا کو متاثر کیا اور وہ نہ صرف دنیا کی10 اساتذہ کی فہرست میں شامل ہوئیں، بلکہ انہیں ’وارکی فاؤنڈیشن گلوبل ٹیچر پرائز‘ کے لئے بھی شارٹ لسٹ کیا گیا۔

برطانوی اخبار ’ڈیلی میل‘ نے اینڈریا کے حوالے سے بتایا کہ اینڈریا کا کہنا ہے کہ ’’میرے اسٹوڈنٹس جب مجھ سے مانوس ہوئے اور مجھے اپنے گھروں اور حالات کے متعلق بتایا تو مجھے پتا چلا کہ وہ کتنے مسائل اور پریشانیوں کا شکار ہیں۔ کسی کو اس کی اپنی زبان میں خوش آمدید کہنا بہت سی رکاوٹوں کودور کردیتا ہے۔‘‘

پرائز کے ترجمان کا کہنا تھا کہ’’اینڈریا وہ کام کر رہی ہیں جو عام طور پر کوئی نہیں کرتا۔ وہ طالب علموں کے مسائل سنتی، اسکول کے وقت کے بعد ان کے گھروں میں جاتی ہیں، تاکہ کچھ مدد کرسکیں۔ بچوں کو بس میں سوار کراتی ہیں اور اسکول گیٹ پر کھڑے ہو کر بچوں کو خوش آمدید کہتی ہیں۔ یہ قابل ستائش کام ہیں۔‘‘

end

Mediabites Editorial – Courtesy VOA Urdu

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here