تجزیہ: الیکشن سے پہلے پاکستانی میڈیا کی صف بندیاں

0
315

ہر جمہوری مُلک میں میڈیا آزاد ہوتا ھے اور کسی بھی سیاسی جماعت کی حمایت کرنے یا ناں کرنے میں بھی مُکمل آزادی ہوتی ھے۔ امریکہ کے صدارتی الیکشن میں سی این این نے کُھل کر ٹرمپ کی مُخالفت کی اور ہیلری کی سُپورٹ کی جبکہ دوسرے بڑے میڈیا گروپ فوکس نیوز نے ٹرمپ کی مُکمل حمایت کی، اسی طرح انگلینڈ بھی بریگزٹ کے مسئلے پر میڈیا میں واضح تقسیم نظر آئی


چونکہ پاکستان کے الیکشنز بھی قریب آ رہے ہیں لہٰذا پاکستان کے میڈیا گروپس بھی اپنی صف بندی کر چُکے
جنگ اور جیو گروپ اُسوقت مُکمل طور پر مُسلم لیگ ن کی حمایت میں آ چُکے
آپ جنگ کا صفحہ اوّل دیکھ لیں یا ایڈیٹوریل پڑھ لیں، مُسلم لیگ ن کے حمایت یافتہ اکثریت میں موجود
عطاءالحق قاسمی، طارق بٹ، الطاف قُریشی، ارشد محمود چوھدری، یاسر پیرزادہ، محمد مہدی، سُہیل وڑائچ، آصف بھٹی،حُزیفہ، نجم سیٹھی، حفیظ نیازی، حنا بٹ، عُمر چیمہ، احمد نُورانی، عمار مسعود وغیرہ


جیو کے نیوز بُلیٹن بھی دیکھ لیں، طلال چوھدری اور دانیال عزیز کیپیٹل ٹاک سے لیکر شاہ زیب خان زادہ، مُنیب فاروق سے طلعت حُسین کے شو میں باقاعدگی سے شرکت کرتے ہیں اور مُسلم لیگ ن کا بیانیہ آگے بڑھاتے ہیں۔ ابھی چند دن پہلے عمران خان کی سابقہ زوجہ ریحام خان کو جس طریقے سے جیو نے کور کیا وہ ایک واضح اشارہ تھا کے جیو کی نیوز اسٹریٹیجی بالکُل کلیئر ھے اینٹی عمران خان ایجنڈے کی واضح کوریج۔


آپ لندن سے جیو کے رپورٹر مُرتضی علی شاہ کے سوشل میڈیا پر اپ ڈیٹس دیکھ لیں آپ کو پتا چل جائیگا کے جیو کی پی ٹی آئی کے مُتعلق پالیسی کیا ھے۔ لیکن جنگ جیو گروپ اخبار کے ایڈیٹوریل کو بیلینس کرنے کیلیے مظہر برلاس، ارشاد بھٹی، منصور آفاق اور ڈاکٹر صفدر اکثر حکومت مُخالف آرٹیکلز لکھتے ہیں۔

اب آتے ہیں دوسرے بڑے گروپ اے آر وائی کیطرف، اے آر وائی کُھل کر حکومت کی مُخالفت کرتے ہیں اور پی ٹی آئی کیلئے سوفٹ کارنر رکھتے ہیں، اگر آپ پروگرام رپورٹرز دیکھتے ہیں تو اُسمیں صابر شاکر اور حمید بھٹی کھُل کر ن لیگ کی مُخالفت کرتے ہیں، ارشد شریف بھی اپنے شو میں کوئی ایسا موقع نہیں دیتے جہاں مُسلم لیگ ن کو کوئی ریلیف مل سکے۔ کاشف عباسی اور وسیم بادامی اپنے پروگرامز میں حکومت پر تنقید تو کرتے ہیں لیکن اپوزیشن پر تنقید کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے، اور کُچھ بیلینس ہو جاتا ھے۔

لیکن جسطرح جیو  پر اینٹی پی ٹی آئی چھاپ لگ چُکی اسی طرح اے آر وائی پر اینٹی مُسلم لیگ ن کی چھاپ لگ چُکی.. لیکن اے آر وائی جلد جُگنو مُحسن کیساتھ شو کرنے جا رہا ھے جو اس بات کا اشارہ ھے کے برف پگھل چُکی، اور اے آر وائی اپنی پروگرامنگ میں ایک بیلینس لانے کا خواہاں


اسکے بعد بڑا گروپ آتا ھے دُنیا نیوز، دیکھا جائے تو دُنیا گروپ حکومت اور اپوزیشن دونوں کیلیے ایک زبردست پلیٹ فارم ھے، اگر ایک طرف حبیب اکرم ن لیگ کیلیے نرم گوشہ رکھتے ہیں تو سعد رسول ن لیگ کے ایک بڑے ناقد ہیں۔ ایاز امیر اور ہارون رشید جہاں ن لیگ کے بڑے مُخالفین تو سلمان غنی ن لیگ کی سُپورٹ میں خم ٹھونک کر کھڑے ہوتے ہیں۔ کامران شاھد بھی اپنے پروگرام میں ن لیگ اور پی ٹی آئی کی نمائندگی بھر پور طریقے سے کرتے ہیں

دُنیا کے کامران خان شو یہ خاصا ھے کے وہ ناں تو حکومت کی حمایت میں اور ناں ہی مُخالفت میں، کرنٹ افیئرز اور موجودہ مسائل پر سیر حاصل بحث کی جاتی ھے چاھے وہ حکومت پر ہوں یا اپوزیشن پر

جہاں مُعید پیرزادہ اکثر یتی پروگرام اینٹی حکومت کرتے ہیں وہیں سُہیل احمد مُسلم لیگ ن کی حمایت میں حسب حال میں کُھل کر حمایت میں بولتے ہیں۔ وجاہت مسعود خان بھی کبھی حکومت مُخالف تو کبھی حکومت کی حمایت میں شو کرتے نظر آئینگے۔


دُنیا اخبار کے ایڈیٹوریل میں دیکھیں تو ایک طرف ایاز امیر اور ہارون رشید کا اگر جُھکاؤ پی ٹی آئی کیطرف ہے تو رؤف طاہر اور خورشید ندیم مُسلم لیگ ن سے دلی لگاؤ رکھتے ہیں۔ رؤف کلاسرہ اور بابر اعوان جہاں اکثر حکومتی ناقد ہیں تو حبیب اکرم نواز شریف کے دیوانے ہیں۔ لیکن دُنیا ایڈیٹوریل میں اینٹی حکومتی نمائندگی زیادہ نظر آئیگی، یہی وجہ ھے کے دُنیا ایڈیٹوریل اب جنگ کے مقابلے پر آ چُکا۔

اب اگر ان تینوں گروپس کا تجزیہ کیا جائے تو جیو جنگ گروپ کھُل کر حکومت اور مُسلم لیگ ن کی حمایت میں آ چُکا اور اُس پر یہ چھاپ دن بدن گہری ہوتی جا رہی ھے۔ لیکن پی ٹی آئی کیلیے جیو کا بائیکاٹ الیکشن میں بڑا نُقصان کرے گا کیونکہ بلا شُبہ جیو نیوز ابھی بھی ریٹنگز میں پاکستان کا سب سے زیادہ دیکھا جانیوالا چینل ھے، پی ٹی آئی کو الیکشن سے پہلے اپنے تعلقات بہتر بنانا ہونگے۔


جہاں جیو پر حکومتی چھاپ لگ چُکی، وہیں اے آر وائی پر اینٹی حکمتی چھاپ لیکن اے آر وائی آہستہ آہستہ حکومت کیساتھ اچھے تعلقات کا خواہاں، اب اکثر رانا ثنااللہ کو اے آر وائی پر لائیو لیا جاتا ھے، جُگنو مُحسن کا اے آر وائی پر شو کرنا بھی ایک بڑا بریک تھرو ھے، اُمید ھے الیکشن سے پہلے اے آر وائی حکومت کیساتھ مزید اچھے تعلقات قائم کرُلیگا۔


لیکن بلا شُبہ دُنیا نیوز نے اپنی پالیسی کو کامیابی سے آگے بڑھایا ھے اور حکومت اور حکومتی مُخالف موقف کو بڑے بیلینس کیساتھ لیکر چلتے ہیں، یہی وجہ ھے دُنیا نیوز کی پروگرامنگ نے اپنے بیلینس تجزیوں کیوجہ سے ریٹنگز میں بڑی کامیابیاں حاصل کی ہیں۔
(باقی آئیندہ)

end

تجزیہ: عمران ملک

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here