PUBLIC BOLTEE HAI: قتل طفلاں کی منادی ہو رہی ہے شہر میں ۔ ماں مجھے بھی مثل موسیٰ بہا دے نہر میں

0
181

نیلی آنکھوں والی گڑیا ! ہم تجھ سے شرمندہ ہیں

ماں تیری تو روز مرے گی قاتل جب تک زندہ ہیں 

ہم اس قوم کے غافل لوگ سب ہی جواب دہندہ ہیں

تجھ پر جو بیتی ہے اس پر زینب ہم شرمندہ ہیں 

وے بلھیا –آج مر گیا توں تیری قبر تے نا وجن ڈھول

تیرے شہر قصوردےشمراں نیں آج زینب دیتی رول

کوئی مسیحا ادھر بھی دیکھے کوئی تو چارہ گری کو اُترے

اُفق کا چہرہ لہو میں تر ہے زمیں جنازہ بنی ہوئی ہے

خبر میں کیوں تصویر فقط زینب کی ھے؟

کچرے سے جو لاش ملی، ھم سب کی ھے

زینب کے گھر جا اور تصویر کھنچوا

شہر کے حاکم خبر ترے مطلب کی ہے

زینب کو انصاف نہیں زینب گڑیا کے نام سے سیاست دو چار روز ضرور ہوگی اسی کا نام ناپاکستان ہے جہاں غریب کو صرف شرمندہ ہونا پڑتا ہے

یہ جو میری آنکھ میں پانی ہے یہ میرے دکھ کی ترجمانی ہے

دور جہالت میں بیٹیوں کے پیدا ہوتے ہی زندہ دفنا دیا جاتا تھا اس دور زلالت میں بیٹیوں کو قتل کرنے سے پہلے درندگی کا نشانہ بھی بنایا جاتا ہے

لاش پر لاش گری نیند نا ٹوٹی تیری حاکمِ

قاتلِ وقت تیری مردہ ضمیری کو سلام

جا کے مسجد میں اعلاں کرا دے کوئی بیٹیاں اب نہ مانگے خدا سے کوئی

end

MediaBites Editorial – Shoaib Naqvi

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here