لاھور کے اُفق پر ایک اور چینل کی آمد آمد – کیا ایک اچھا فیصلہ؟

0
425

پاکستان میڈیا ایک بہت بڑی انڈسٹری بن چُکی، نیشنل چینلز کیبعد اب سٹی چینلز بھی انڈسٹری میں نمایاں مُقام بنا رہے ہیں۔ پاکستان کے جیّد صحافی مُحسن نقوی نے سٹی چینل کا آئیڈیا پاکستان کی مارکیٹ میں مُتعارف کروایا اور زبردست کامیابی سمیٹی
 سٹی 42 نے کامیابی کے تمام ریکارڈ توڑے۔ شہر بھر کی چھوٹی سے چھوٹی خبر کو بھی کور کیا گیا اور عوام کی بھر پور نمائندگی ہوئی، سٹی 42 نا صرف سیاسی اور عوامی طور پر مقبول ہوا بلکہ بزنس کے لحاظ سے بھی ایک نیشنل نیوز لیول کے چینلز جیسا بزنس سمیٹا


 سٹی 42 کی کامیابی کیبعد ہی کراچی میں میٹرو اور سٹی 21 چینلز کا آغاز ہوا۔ میٹرو نے بھی کراچی کی مقامی مارکیٹ میں زبردست کامیابیاں سمیٹیں۔
لاھور کی مارکیٹ میں ایک اور لوکل چینل کی اشد ضرورت تھی اور پھر سٹار ایشیا نیوز – بول میرے لاھور کی آمد ہوئی، لیکن کمزور پلاننگ اور چھوٹےانفراسٹرکچر کیوجہ سے سٹار ایشیا نیوز وہ کامیابی حاصل ناں کر سکا جسکی توقع کی جا رہی تھی۔
سٹار ایشیا نیوز کیلیے یہ ایک اچھا وقت تھا کے وہ سٹی 42 کے بُلند معیار کو چھو سکتا لیکن ایسا ناں ہو سکا۔


اس کا فائدہ اُٹھاتے ہوئے کامیاب بزنس مین اور دُنیا گروپ کے چیئر مین نے لاھور نیوز کے نام سے چینل لانے کا پلان کیا، اور ایک بڑے پیمانے پر اسے لانچ کیا، لیکن لاھور نیوز بھی اپنے بھر پور نیٹ ورک اور دُنیا گروپ کی مضبوط سُپورٹ کے باوجود وہ مقام نہیں بنا سکا جسکی توقع کی جا رہی تھی
لاھور نیوز سے توقع کی جا رہی تھی کے وہ سٹی 42 کو ٹف ٹائم دیگا لیکن مُختلف وجوہات  کیوجہ سے ایسا ناں ہو سکا۔ سٹی 42 ابھی بھی لاھور کا نمبر 1 چینل سمجھا جاتا ھے۔


کُچھ میڈیا انالسٹ کا خیال ھے کے لاھور جیسے شہر کیلیے زیادہ سے زیادہ دو چینلز ہی کافی تھے کیونکہ میڈیا پلاننگ میں ایک سے دو چینلز کی ہی گُنجائش نکل سکتی ھے ناں کے تین سے چار چینلز
 ایک دفعہ تو آپ اپنی پی آر سے کسی لوکل چینل کو بزنس دلوا سکتے ہیں ناں کے ہر دفعہ تین سے چار لوکل چینلز پلان کا حصہ ہوں۔

پاکستان جیسے سیاسی مُلک میں لاھور کے کلائینٹس بھی نیشنل چینلز پر ہی اشتہار دینے کو لازم سمجھتے ہیں۔
 اب ان حالات میں نیو ٹی وی بھی لاھور کو ٹارگٹ کرتے ہوئے لاھور رنگ کے نام سے چینل لا رہے ہیں۔ چونکہ نیو ٹی وی کی مالکان کا دُنیا گروپ کیساتھ تعلیمی سیکٹر میں بھی بھر پور مُقابلہ ھے اسی لیے اُنھوں نے پہلے دُنیا نیوز کے مُقابلے میں نیو نیوز مُتعارف کروایا اور اب لاھور نیوز کے مُقابلے میں لاھور رنگ لا رہے ہیں۔


کیا یہ فیصلہ دانشمندانہ ھے؟
اس سلسلے میں میڈیا گروز کا کہنا ھے کے یہ کسی بھی طرح سے دانشمندانہ فیصلہ نہیں، لیکن مُقابلے کی دوڑ میں کُچھ نیا کُچھ علیحدہ کر کے ہی لاھور رنگ لاھور یوں کے دل جیت سکتا ھے۔ ریٹنگز کی اس دوڑ میں لوکل چینلز کا ریٹنگز لینا بہت مُشکل لیکن اچھی پروگرامنگ سے اچھے پیکجز سے لاھور رنگ کامیابی حاصل کر سکتا ھے۔

میڈیا بائیٹس دُعاگو ھے کے لاھور رنگ کامیابی سے اپنے سفر کا آغاز کرے، اور لاھور یوں کو زبردست اینٹرٹین کرے۔

end

Mediabites Editorial – Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here