عمران کے مخالفین کے لیے یہ گھٹیا قسم کی ٹھٹھہ بازی کا ایک نادر موقعہ ہے. قومی خزانہ محفوظ رہے بیویاں آنی جانی چیز ہیں! عمران خان کی شادی پر عمٌار کاظمی کی زبردست تحریر

0
181

ہمارے ایک رشتے کے کزن ہوا کرتے تھے جنھیں ہم پیار سے لالہ جورا اور گاوں والے پیر جْورے شاہ کہا کرتے تھے۔ انھیں جوانی میں پولیو کا اٹیک ہوا اور وہ معذور ہو گئے۔ بستر پر لیٹے لیٹے انھوں نے میرے خالہ زاد بھائی سے عملیات کی کتابیں لیں ،کچھ چلے کاٹے اور باقاعدہ پیری مریدی شروع کر دی۔ خاندان میں اسطرح سے چلوں والی باقاعدہ پیری مریدی کوئی کرتا نہیں تھا تو بزرگوں کی نیک نامی کیساتھ پیر صاحب دونوں میں ہٹ ہو گئے۔ ضرورت مند مرد اور خواتین کا تانتا بندھ گیا۔ ہم عمر شریک جیلس ہونے لگے کہ پیر چلنے پھرنے سے گیا تو خواتین چل کر حاضری دینے لگیں۔ طرح طرح کی تہمتیں ،افواہیں اور سوال گردش کرنے لگے کہ پیر کے پاس فلاں فلاں خواتین باقاعدگی سے کیا کرنے جاتی ہیں؟ مشہور ہوا کہ جو ایک بار بابے کو حاضری دے آتی ہے وہ پھر بار بار جاتی ہے اور اسی کی ہو کر رہ جاتی ہے.

معتقدین کے سوا سب کو شک گزرنے لگا۔ انہی دنوں میں کسی منچلے نے ایک دن یہ منادی کردی کہ ٴٴبی بی او بھینو تے بھراو،بْوہے باریاں بندکر لو پیر جْورے شاہ دیاں لتاں ٹھیک ہو گئیاں نیںٴٴ۔شہباز اور عمران دونوں اسوقت وزارت عظمی کے قیوریٹ امیدوار سمجھے جا رہے ہیں اور دونوں پر دوسروں کی بیویاں ہتھیانے کا الزام ہے۔ ٴٴباقی نتیجے کڈھن وچ تسیں آپ ماہر ہوٴٴ۔آپ اس غیر سنجیدہ واقعہ سے جو بھی نتیجہ نکالیں مگر میرے لیے اس میں ایک اہم معاشرتی سوال چْھپا ہوا ہے۔ اور وہ یہ کہ ٴٴ معاشرے کے لئے یہ تاثر کیسا ہے کہ لیڈر جس کسی کی خوبصورت بیوی دیکھے گا اسے خلع یا طلاق دلوا کر نکاح رچا لے گا؟ٴٴ۔ یہ سوال مذہبی یا بنیاد پرست طبقات کے لیے نہیں، یہ ان پڑھے لکھے طبقات کے لیے ہے جو کسی سماج کا حصہ رہتے ہوئے طبقاتی تقسیم کو اعتدال میں رکھنے کے لیے کچھ اخلاقیات وضع کرنے کے خواہاں ہوتے ہیں۔ مطلب عجب ریاست ہے ،پیسے والا قتل کر کے بری ہو جائے اور غریب مجرم پیسہ نہ ہونے کی بنیاد پر پھانسی کے پھندے پر جھول جائے، پیسے والی با اثر اشرافیہ اپنے نام،شہرت اور پیسے کی بنیاد پر اپنی نفسانی خواہشات کی تکمیل کی خاطر جسکا چاہیں گھر اجاڑتے پھریں اورغریب کمزور ہاتھ ملتے رہ جائیں۔ اس سب سے آخر آپ معاشرے کو پیغام کیا دے رہے ہیں؟ جسکی لاٹھی اسکی بھینس؟

اور ان دو انتہائی محترم ، با اثر اور متاثر کن شخصیات ٟشہباز شریف اور عمرانٞ کی وجہ سے لوگوں میں قومی لیڈران پر کس نوعیت کا عدمِ اعتمادپیدا ہونے جا رہا ہے؟ مطلب جس کسی کی بیوی خوبصورت ہو منہ متھے لگتی ہو وہ انھیں اپنے گھر ہی نہ بلائے؟ جب یہ انکے گھروں کیطرف آئیں تو لوگ واقعی دروازے کھڑکیاں بند کر لیں؟کوئی ماتحت افسر اپنی بیوی کو آپکے سامنے نہ ہونے دے اور کوئی خاتون صحافی آپکے انٹرویو کے لیے نہ جائے اور کوئی پیرنی آپکے روحانی مسائل حل کرنے کے لیے آپکا سامنا نہ کرے؟ بڑی آسانی سے پبلک فگرز کی نجی زندگی کا ایک غیر حقیقی بیانیہ پیش کر کے منافقوں کیطرح لوگوں کو خاموش کروانے کی کوشش کی جاتی ہے۔ یہ سوچے سمجھے بنا کہ لیڈر معاشرے کے لیے مثال ہوتے ہیں۔وہ مالی اور نفسانی خواہشوں کی قربانیاں دیکرہی معاشرے کے لیے اعلی مثالیں قائم کرتے ہیں۔ مگر یہاں بریک ہی نہیں لگ رہی۔ آپ لوگوں کو دوسری شادی تک ایک نارمل اور درست مارجن ملا کہ چلیں پہلی ناکام ہوگئی تو اب کوئی حرج نہیں کہ آپکے عمر رسیدہ لیڈر دوسری شادی رچا لیں۔مگر آپ نے تو حضورعادت ہی بنا لی۔کسی نے کہا کہ جی مطلقہ سے شادی کرنا سنت ہے۔ بھئی یہاں مطلقہ کون تھی؟ ایک پیرنی کو خلع دلوایا گیا اور دوسریٟ ڈی پی او کی بیوی ٞکو طلاق۔؟مطلب بیٹنگٟشرطیںٞ لگانے کا اقرار آپکے لیڈر پبلکلی کر رہے ہیں اور آپ انکیٟاللہ معاف کرے ٞ وکالت کے لیے مذہب سے مثالیں ڈھونڈ ڈھونڈ کر لا رہے ہیں؟

اگر انھوں نے دوسری کے بعد تیسری شادی کے لیے کسی غریب یا متوسط گھرانے کی کسی غریب، یتیم اور بیوہ خاتون کا انتخاب کیا ہوتا توبھی ہم اس سے کوئی قابل دفاع فلاح کا مثبت پہلو نکال لیتے، مگر یہاں تو جوان بچوں کی صاحبِ حیثیت رئیس ماں کو خلع دلوایا جا رہا ہے، معیار وہی خوبصورتی اور حیثیت ہے۔ہمارے سامنے تین مثالیں ہیں اور کسی ایک میں بھی کوئی خاتون پہلے سے طلاق یافتہ یا بیوہ نہ تھی۔ اوپر سے جنگ گروپ جیسا تجربہ کا میڈیا گھٹیا پنے کی ہر حد پار کر کے اس پر عمران کی سابقہ بیویوں کی تصویروں کیساتھ گھٹیا گانے چلا رہا ہے۔ جوان بیٹا اپنی ماں کی شادی کی میڈیا پر تردید کر رہا ہے۔ معاشرہ کس طرف جا رہا ہے، کیا پیغام دیا جا رہا ہے؟ کسی کو پرواہ نہیں۔ خواتین کے حوالے سے یہ وضاحت بھی ضروری سمجھتا ہوں کہ یقیناً ہر عورت عمران یا شہباز شریف میں انٹرسٹد یا انکے پیسے سے متاثر نہیں ہوگی مگر اکثر مرد انھیں گھر بلاتے ہوئے ضرور جھجکیں گے۔ عمران کے مخالفین کے لیے یہ گھٹیا قسم کی ٹھٹھہ بازی کا ایک نادر موقعہ ہے اور سٹیریو ٹائپ روشن خیال تھنکرز اور حمایتی اس سنجیدہ معاشرتی مسلہ کو محض بنیاد پرسستی اور تنگ نظری کا نام دیکر نظرانداز کر رہے ہیں۔ کچھ دوست کہتے ہیں کہ یہ نان ایشو ہے اور میں سمجھنے سے قاصر ہوں کہ اعلی اخلاقی اقدار کے حوالے دینے والے روشن خیالوں اور بات بات پر غیرت دکھانے والے مذہبی اور بنیاد پرست لوگوں کے لیے یہ ٴٴبریچ آف ٹرسٹ ٴٴنان ایشو کیسے ہے؟

کیا ہمیں اس سماج کی کوئی پرواہ نہیں جو اس سب کو مشعل راہ جان کر ان کی تقلید کرے گا اور ہر طاقتور اپنے سے کمزور کیساتھ یہی رویہ روا رکھنے کی کوشش کرے گا؟ شاید ایسی ہی کچھ وجوہات ہوتی ہونگی جو لوگ بیویوں کو جالی والا برقعہ پہنانے یا پھر تالے لگانے پر مجبور ہو جاتے ہیں۔ کچھ خدا کا خوف کرو لوگو۔ کیا ملکی خزانے پر ڈاکہ ڈالنا ہی کرپشن کی اکلوتی تعریف ہے؟ کسی کی نجی زندگی پر ڈاکہ ڈالنا درست ہے؟ کل تک زرداری پر ایان علی اور بلاول پر حنا ربانی کھر کے جھوٹے سکینڈلز ابھارنے کی کوشش وہی لوگ کرتے رہے جو آج اپنی قیادتوں کے ثابت شدہ سکینڈلز پر خاموش ہیں۔،کیا منافق لوگ ہیں۔ زرداری پر گیارہ سال جیل کاٹنے اور عدالتوں میں کچھ ثابت نہ ہونے کے باوجود کرپشن کے داغ نہ دھلے۔ بڑے میاں صاحب اقامہ پر نکلے اور کرپشن میں مشکوک پائے جانے کیوجہ سے احتساب عدالتوں تک پہنچے۔چھوٹے میاں صاحب کو حدیبیہ ریفرنس نہ کھلنے کی وجہ سے مارجن ملا ، عمران عدالت سے مالی کرپشن پر صاف ستھرا نکلا۔

مگر یہ اسٹیبلش ہوتے ہوئے ثابت شدہ الزامات ٟجنکی تصدیق خود تحریک انصاف نے وضاحت جاری کر کے کر دیٞجو چھوٹے میاں صاحب اور عمران خان پر لگے ہیں انھیں آپ کیا کہیے گا؟پیغام کیا مل رہا ہے؟ ٴٴبھاویں کسے دی بیوی نو طلاق ،خلع دلواکے نس جائے پر قومی خزانہ محفوظ رہےٴٴ۔آخری بات یہی کہنا چاہتا ہوں کہ عمران خان کے مالی طور پر صاف ہونے اور میاں شہباز شریف کی ڈویلپمنٹ کے حوالے سے ، دونوں کا دل میں انتہائی احترام ہے مگر انھیں بھی اب اپنی خواہشوں پر تھوڑا کنٹرول کرنا ہوگا۔ ایک صحت مند اور اخلاقی طور پر قابل احترام و بھروسہ مندمعاشرے کے قیام کےلیے ہمیں صرف جنگلہ بس، اورینج ٹرین،اوورہیڈ اور انڈر پاسسز بنانے والی یا پھر محض مالی کرپشن سے پاک قیادتوں کی ضرورت نہیں، اس سب کے ساتھ لوگوں کو عزت اور تحفظ کی بھی ضرورت ہے۔

end

MediaBites Editorial – Courtesy: Ammar Kazmi

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here