خادم اعلی کی پریس کانفرنس میں کہاں کیا غلط ہوا؟

0
390

مقتول زینب کے قاتل کو پنجاب پولیس نے گرفتار کر لیا اور اس مسئلے پر گورنمنٹ آف پنجاب کے اطلاعات ڈیپارٹمینٹ نے جس طریقے سے اس مسئلے کو ہینڈل کیا اُس نے گورنمنٹ کے اس بڑے اقدام کو بھی چُندھیا کر رکھ دیا۔
پہلی بات تو یہ کے پاکستان کے سب سے بڑے صوبے کے وزیر اعلی کو خود یہ پریسر کرنیکی کیا ضرورت تھی؟

ایک اے آئی جی لیول کا بندہ یہ سب کُچھ کر سکتا تھا، لیکن یہ پوائنٹ اسکورنگ کیوں کی گئی؟

پولیس افسران کی اگر عزت افزائی کرنی تھی تو ایک علیحدہ میٹنگ میں بھی کی جا سکتی تھی، پولیس افسران کو کریڈٹ دینا تو ٹھیک تھا لیکن تالی بجوانا ایک اچھا عمل نہیں تھا۔

مقتول زینب کے والد کو پریسر میں بٹھانے کی کوئی ضرورت نہیں تھی، وہ بچی پر ماتم کر رہے تھے اور خادم اعلی تالیاں بجا رہے تھے

سوالات کے اچھے طریقے سے جوابات نہیں دیے گئے
اپنے من پسند صحافیوں کے نام لیکر سوالات کیے گئے۔ اور زینب کے والد کو کھُل کر نہیں بولنے دیا گیا۔

اس تمام پریس کانفرنس سے یہ ثابت ہوتا ھے کے گورنمنٹ آف پنجاب کے اچھے اقدامات کے باوجود میڈیا ہینڈلنگ میں ابھی بھی کافی جھول ہیں، جسکو الیکشنز سے پہلے کنٹرول کرنا ہو گا۔

end

Mediabites Editorial – Shoaib Naqvi

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here