خادم اعلی پنجاب سے گُزارش: میڈیا مینجرز سے کہیں کے گورنمنٹ اور کمرشل کلائینٹس میں بڑا فرق ہوتا ھے؟

0
133

جوں جوں الیکشن کا وقت قریب آ رہا ھے سیاسی جماعتیں اور حکومتیں دل کھول کر ایڈورٹائزنگ بجٹ کا استعمال کر رہی ہیں۔
سندھ گورنمنٹ، کے پی کے گورنمنٹ اور پنجاب گورنمنٹ اپنے ساڑھے چار سالہ دور میں کیے گئے میگا پراجیکٹس کو عوام تک پہچانے میں پیش پیش ہیں۔


بازی کون جیت رہا ھے؟
بلا شُبہ صوبہ پنجاب تمام صوبوں سے زیادہ اشتہارات پر صرف کر رہا ھے اور بجٹ یقیننا ارب کو چھو چُکا ہو گا۔ پنجاب حکومت کے میڈیا مینجرز حکومتی بجٹ کو کمرشل کلائینٹس کیطرح لگا رہے ہیں جو کے یقیننا ایک مُثبت روایت نہیں ہے؟ میڈیا مینجرز کو سمجھنا ہو گا کے کمرشل کلائینٹس کا بجٹ سیلز کیساتھ مُنسلک ہوتا ھے جبکہ حکومتی اشتہاری بجٹ عوام کی ٹیکس کے پیسوں سے ادا ہوتا ھے۔ لہٰذا اُسمیں احتیاط بہت ضروری ھے۔

حکومتی میڈیا مینجرز کی نا اہلی؟
پچھلے کُچھ عرصہ سے خادم اعلی پنجاب کے بڑے اور قابل تعریف پراجیکٹس کو اشتہارات کی شکل دیکر میڈیا پر چلایا جا رہا ھے
 ایسا کیوں؟ کیا میڈیا مینجرز کی ٹی وی چینلز اور اخبارات پر پی آر اتنی کمزور ھے کے نیوز چینلز ان قابل رشک پراجیکٹس پر پیکج بنا کر چلا نہیں سکتے؟ جب کے چینلز کو مُسلسل حکومتی اشتہارات بھی مُسلسل جا رہے ہوں۔ اور کیا وجہ ھے کے اخبارات میں مُسلسل اشتہارات کے باوجود ایک بڑی خبر بھی خادم اعلی پنجاب کی نہیں لگ سکتی؟ حل یہ ڈھونڈھ لیا گیا کے خادم اعلی پنجاب کی ہر اچھی خبر کو اشتہار بنا کر چینلز اور اخبارات کو نواز دیا جائے، جو یہ ثابت کرتا ھے کے حکومتی میڈیا مینجرز میں اچھی پی آر کا بڑا فُقدان ھے۔

:کمزور پی آر
کُچھ چینلز نے خادم اعلی کے سعودی عرب کے دورے کو منفی انداز سے پیش کیا، کیا وجہ ھے کے ان چینلز کیساتھ اچھی پی آرنہیں رکھی گئی؟ کیوں حکومت کو الیکشنز سے پہلے ان چینلز کیخلاف عدالتوں میں جانا پڑ رہا ھے، کتنی دفعہ میڈیا مینیجرز نے ان سے اچھے تعلقات بنانے کی کوشش کی؟

کڈنی اور لیور ٹراس پلانٹ انسٹیٹیوٹ کے اشتہارات کو جسطرح ایڈورٹائز کیا گیا ہونا تو یہ چاہیے تھا کے میڈیا پر اُسے زبردست پزیرائی مِلتی، لیکن بجائے اس کے سوشل میڈیا پر اس کی زبردست پراجیکٹ کی عزت افزائی ہوتی، میڈیا پر اس پر بھی منفی پراپیگنڈا کیا گیا، ٹِیزڑ اشتہار چلانا عوام کو ایک آنکھ نہیں بھایا اور تمام عوامی حلقوں کیوجہ سے اس کیمپیئن کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔

اب سیف سٹی کے اشتہارات میں بھی جہاں کوارٹر صفحے کے اشتہار کو فُل پیج اشتہار جیسی لگژری حاصل ہو وہاں صرف افسوس ہی کیا جا سکتا ھے۔ فُل پیج کے اشتہار کو کوارٹر صفحے کے اشتہار میں سمایا جا سکتا تھا لیکن کون پوچھے ان میڈیا مینیجرز کو کون بتائے ان میڈیا مینیجرز کو کے حکومتی اور کمرشل اشتہارات میں زمیں آسماں کا فرق ہوتا ھے۔


 پتا چلانا ہو گا کے کون ان اشتہارات کی منظوری دیتا ھے؟ خادم اعلی کو اگر پتا چل جائے کے کیوں اشتہارات کا پیسہ فضولیات میں اُڑایا جا رہا ھے وہ اس کا ضرور نوٹس لینگے۔ اور لینا بھی چاہیے کیونکہ الیکشن سر پر ہیں اور پلاننگ کا شدید فُقدان ھے
end

MediaBites Editorial: Blog by Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here