تعلیمی نظام میں معاشی کرپشن کے ساتھ ساتھ علمی، شعوری اور اخلاقی کرپشن

0
480

دنیا میں شاید ہی کوئ اور ملک ہو جہاں ریاستی پولیس فورس کیمپس میں داخل ہو سکتی ہو یا کاروائ کرسکتی ھو۔ ھمارا ہمسایہ ملک بھارت، جس کی اپنی صورتحال بھی ہمسے بہتر نہیں، جب وہاں بھی پولیس دہلی کی ایک یونیورسٹی میں داخل ہوئ تو اگلے دن بھارت سڑکوں پر تھا۔ یہاں تک کہ ہمارے ملک میں بھی کچھ عرصہ پہلی یہ انوکھی روایت نہیں تھی۔ مگر بات صرف یہاں تک محدود نہیں، ہماری تہزیب کی نمائندگی کرنے والے شہروں کے کئ تعلیمی اداروں کے حالات کی گھنمبیڑتا کا اندازہ اس سے بخوبی لگایا جاسکتا ہے کہ وہاں رینجرز مستقل طور پر تعینات ہیں۔
اس سے یہ چیز تو واضح ھے کہ ھماری تعلیم اور تعلیمی نظام میں معاشی کرپشن کے ساتھ ساتھ علمی، شعوری اور اخلاقی کرپشن بھی ہوئ ہے۔ ہمارے اداروں میں دی جانے والی تعلیم طالب علم کو کوئ بہتر سوچ دینے میں ناکام ہو چکی ھو اور نتیجہ یہ ھے کہ ہمارے موجودہ معاشرے کی وہی پسماندہ اور تعفن زدہ سوچ ہی ایک طالبعلم کی سوچ پر حاوی ھے اور چونکہ نئ سوچ ہی نئ روایات اور اخلاقیات کو جنم دیتی ھے سو اس محاز پر بھی ہم خالی ہیں۔ اور معاشرہ مجموعی طور پر اپاہج ھے۔
حالیہ دنوں پنجاب یونیورسٹی میں ھونے والا واقع ماضی قریب میں جامعات اور دوسری درسگاہوں میں تسلسل سے ھونے والے کئی بھیانک واقعات کی ایک کڑی ھے۔ اور معاشرے کی صورتحال بھی اس سے مختلف نہیں۔ جس کا دردناک مگر حقیقی مطلب یہی ھے کہ جس طرح معاشرہ عدم برداشت، بنیاد پرستی اور انتہا پسندی کی زد میں ھے، تعلیم اور طالبعلم کی صورتحال بھی اس سے زیادہ مختلف نہیں۔

اگر ہمارے تعلیمی اداروں میں برداشت، اتحاد اور ترقی پسندی کی فضا ھوتی، نئی سوچ کو طاقت سے دبانے کے بجائے جنم دینے اور پھلنے پھولنے کی کوشش کی جاتی تو شاید آج ھم ایک دوسرے کے وجود سے ہی خوف زدہ اور متنفر نہ ھوتے۔
سوال یہ نہیں کہ اس سب میں ملوث یا زمہ دار کون تھا، بڑا سوال یہ ھے کہ وہ کونسی بنیادی خرابیاں اور کمیاں ہیں جو ان رویوں کو جنم دے رہیں ہیں۔ کیونکہ اگر یہ بنیادی خامیاں دور نہ کی گئی تو اس طرح کے واقعات کا تسلسل قائم رھے گا بس چہرے بدلتے رہیں گے۔

میں ایک پنجابی طالبعلم ہوں اور تقریبا چار سال سے پنجاب یونیورسٹی میں زیر تعلیم ہوں۔
حالیہ اور آئے دن ہونے والے واقعات کے متعلق یقینا پورے ملک میں تشویش ہوگی کیونکہ پنجاب یونیورسٹی ان چند جامعات میں سے ہے جہاں ملک کے ہر کونے سے اور معاشرے کے ہر طبقے سے طالبعلم وابستہ ہیں۔ اور یہی افرا اور خیالات کا تنوع ہے جو جامعات، یونیورسٹیوں میں منفرد خاصیت ہوتی اور انہیں باقی اداروں سے دلچسپ اور پروڈکٹیو بناتی ہے۔

میں بطور پنجاب یونیورسٹی کے طالبعلم اپنے مشاہدات آپ کے سامنے رکھوں گا۔ جب ھمارا یونیورسٹی میں داخلہ ہوا تو تبھی پچھلے ایک یا دو سال سے بلوچستان کے طلبہ کو کوٹا کی بنا پر ایڈمیشنز دینے کا سلسلہ شروع کیا گیا۔ آسان یہ کہ ہر مارننگ کے بیج میں دوسرے کوٹاز پر آئے لوگوں کے ساتھ ساتھ ایک بلوچی (بلوچ، پشتون، براہوی) طالبعلم۔

اور ان طلبہ کے اتحاد اور سیاسی و شعوری پختگی نے، اپنی سرگرمیوں میں ڈرا دھمکا کر طلباء کو لانے اور ان کی اپنی “70 سالہ” سوچ کے زیر اثر رکھنے اور اپنی “سوچ” کے مطابق ان کی زہن سازی کرنے والے، گروہ کو لگام دی۔ جس سے کیمپس کی شعوری اور اخلاقی فضاء میں واضح تبدیلی آئ۔
مگر یہ روشن اور ترقی پسند سوچ نہ تو “حکام” کو بھائ اور نہ دوسرے بنیاد پرستوں کو۔
اس مخصوص گروپ نے اس سال مارچ میں پختون طلباء کے ثقافتی پروگرام پر حملہ کیا، اور اس نئے مظہر کو دبانے کی کوشش کی گئ مگر یقینا یہ “70سال” پرانی پنجاب یونیورسٹی بھی نہیں تھی، سو انہیں اس بار مناسب جواب ملا۔ جو چیز “جمیعت” کے پائنیرز فیسٹیول درہم برھم کرنے کی بنیادی وجہ بنی وہ، چند دن قبل اسلامیہ کالج، سول لائنز میں پشتون طلبہ کے اس فیسٹیول میں شامل ہونے کے انکار پر، تشدد تھی۔

کیمپیس میں جو لوگ عمران خان جیسے قومی و عالمی کرکٹر اور ہیرو کی تزلیل اور اسے دست و گریبان کرسکتے ہیں اور جہاں سپریٹنڈینٹ پولیس کی گاڈی نہیں محفوظ وہاں ایسے کبوتر کے بلی دہکھ کر آنکھیں بند کرنے والے فیصلے نہیں بلکہ بڑے اور ایفیکٹیو فیصلوں کی ضرورت ہے۔

میری ‘حکام’ اور سیاستدانوں سے التماس ہے کہ وہ اپنے حقیر اور بے تکے مفارات کو لگام دیں اور یہ نئے آنے والے، موجودہ وائس چانسلر کا لیئے بھی امتحان ہے کہ وہ ان معاملات کو  حقیقت پسندی اور دلیری سے نپٹاتے ہیں یا ان سے پہلے آنے والے دوسرے وائس آفس ہولڈرز کی طرح عارضی سمجھوتہ پر اکتفاء کرتے ہیں۔

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here