آج کا احتجاج اور دھرنا – عوام کیا کہتی ھے؟

0
366

پاکستان عوامی تحریک اور علامہ طاہرالقادری پاکستان کی سیاست میں ایک زلزلے سے کم نہیں، ہر حکومت میں وہ حکومت کی جڑوں کو ہلانے کیلیے تشریف لے آتے ہیں اور میڈیا کو بھی مصروفیت کا ایک بہانہ مل جاتا ھے۔


آج مال روڈ پر ریلی، جلسہ اور دھرنے کا پروگرام ھے جس کا مقصد پنجاب حکومت کی بُنیادوں کو کمزور کرنا ھے، وزیر قانون اور وزیر اعلی کو ٹف ٹائم دینا ھے۔ اور قادری صاحب کو اب زرداری صآحب اور عمران خان بھی احتجاجی مدد کو آ رہے ہیں۔ اب دیکھتے ہیں کے عوامی تحریک، پی پی پی اور پی ٹی آئی اپنے سیاسی مسل کو کیسے استعمال کرتے ہیں کیونکہ یہ پی اے ٹی اور پی ٹی آئی کیلیے ایک بڑا امتحان ھے کے وہ کتنے لوگوں کو مال روڈ میں لانے میں کامیاب ہوتے ہیں۔


 ھم نے آج کے احتجاج کے سلسلے میں زندگی کے مُختلف حلقوں سے تعلق رکھنے والے لوگوں سے بات چیت کی، اُنکی رائے کیمطابق

ریڈیو سے تعلق رکھنے والے اعظم خان کا کہنا تھا کے شہباز شریف کو فورا استعفی دیدینا چاھیے۔

حاجی عنایت ایک عام شہری کا کہنا تھا کے اس احتجاجی سیاست کو اب ختم ہونا چاھیے، عوام کیلیے آسانیاں تلاش کرنی چاہییں ناں کے مُشکلات


شعیب نقوی ڈیجیٹل میڈیا کے کنسیلٹنٹ کا کہنا تھا کے رانا ثنااللہ کو کم از کم استعفی دیدینا چاہیے


سارنگ جاوید جو میڈیا رپورٹر ہیں کا کہنا تھا کے اپوزیشن کے اس شو کا کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ یہ وفاقی حکومت کیخلاف بھی پہلے دھرنا دے چُکے جو ناکام ہوا اب شہباز شریف کی مضبوط حکومت کیخلاف استعفی مانگنا ایک کمزور احتجاج ھے۔ شہباز شریف نے پنجاب میں اچھے کام کیے ہوئے ہیں۔


 طیب خان جو ایک بزنس مین ہیں کا کہنا تھا کے پاکستان عوامی تحریک ایک بھی سیٹ نہیں جیت سکی، پی ٹی آئی اور پی پی پی کا اس احتجاج میں شرکت کرنا دراصل قادری صاحب کو سیاسی طاقت فراہم کرنا ھے۔ جو پی ٹی آئی کیلیے نُقصان دہ ہو گی۔ لیکن پی پی پی کو اس سے سیاسی ساکھ کو بہتر بنانے میں مدد ملیگی

end

MediaBites Editorial – Imran Malik

LEAVE A REPLY

Please enter your comment!
Please enter your name here